بیو ر و کر یسی کے تبا د لے او ر شفا ف ا نتخا با ت


Mian Fayyaz Ahmed Posted on June 25, 2018

گذ شتہ ہفتے وطنِ عز یز کی بیو ر و کر یسی میں و سیع پیما نے پر تبا د لو ں کی خبر ا نتہا ئی اہمیت کی حا مل رہی۔ اور یہ تبا د لے ا لیکشن کمیشن نے انتخا با ت کو شفا ف بنا نے کی غر ض سے کیئے۔ اسی سلسلے کی ایک ا ہم کڑی ایڈ و کیٹ جنرل عا صمہ حا مد کو ان کے عہد ے سے فا ر غ کر نے کا عمل بھی شا مل تھا۔ جبکہ عا صمہ حا مد کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے عہد ے سے فا ر غ کیئے جا نے کے با ر ے میں میڈیا کی خبر و ں سے معلو م ہوا ہے۔عا صمہ حا مد کا بیا ن کس حد تک در ست ہے، اس پہ بغیر کسی معلو ما ت کے ر ا ئے د ینا ایک نا منا سب با ت ہو گی۔ بہر حا ل یہ کہنے میں کو ئی تا مل نہیں کہ بیو ر و کر یسی کے ا ثر سے نکلے بغیر شفا ف انتخا با ت کی تو قع ر کھنا ایک ہی سو ر ا خ سے با ربا ر ڈسے جا نے وا لے عمل کے متر ا د ف ہے۔

نگراں حکومت کے اپنے بیا ن کے مطا بق اس کی ہر ممکن کوشش ہے کہ آئندہ الیکشن مثالی ہوں جن پر کوئی انگلی نہ اٹھاسکے۔ اسی سلسلے میں گز شتہ بدھ کو نگران وزیر اعظم جسٹس (ر) ناصرالملک سے گورنر سندھ محمد زبیر نے گورنر ہاؤس میں ملاقات کی، ملاقات میں 25 جولائی کو ہونے والے انتخابات کو صاف، شفاف اور منصفانہ بنانے کے اقدامات، صوبے میں تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابات میں بھرپور حصہ لینے کے لیے یکساں مواقع کی فراہمی، پولنگ والے دن امن و امان کو یقینی بنانے سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر نگران وزیر اعلیٰ سندھ فضل الرحمن بھی موجود تھے۔ بیوروکریسی میں تبادلوں کی منظوری کا سلسلہ سندھ سے شروع ہوا تھا اوراب پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے متعدد سیکرٹریز، کمشنر، ایڈیشنل آئی جیز، ایس ایس پیز تبدیل کیئے جاچکے ہیں۔ جبکہ پنجاب سے 48 افسر وفاق کے سپرد کیے گئے۔

پولنگ بوتھ پر فوج کی تعیناتی کے لیے الیکشن کمیشن کے آرمی چیف سے رابطے جاری ہیں۔ تجزیہ کاروں اور سیاسی حلقوں کے مطابق سیاسی جماعتیں اس بات پر متفق تھیں کہ شکوک و شبہات سے پاک الیکشن کے لیے بیوروکریسی میں بڑے پیمانہ پر ا کھا ڑ پچھا ڑ ناگزیر ہے۔ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اس ایشو پراپنا مو قف بہت عر صہ پہلے بیا ن کر چکے ہیں۔ دوسری جانب نوکر شاہی کے روایتی طور طریقوں اور انتخابات پر بلاواسطہ اور بالواسطہ اثر انداز ہونے پر امیدواروں کے خدشات بھی میڈیا نے اجاگر کئے جن میں اندیشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ سیاسی تعلقات، پسند و ناپسند اور نوکر شاہانہ روابط سے منظور نظر امیدواروں کو امکانی سپورٹ ملنے کے خدشات و مفروضات کا بھی سدباب ہونا ضروری ہے۔ یہ تو وہ معاملات ہیں جو انتخابات کے یقینی انعقاد کی طرف اشارہ کرتے ہیں جبکہ دیگر اہم پیشرفتوں کی وبھی پیش نظر رکھنا لازمی ہے اور وہ سیاسی جماعتوں کی انتخابات کے لیے تیاری، کاغذات نامزدگی کے مسترد کیے جانے کی صورت میں اپیلوں کا آپشن، امیدواروں کے ناموں کو حتمی شکل دینا اور سیاسی و انتخابی مہم کی بنیاد پارٹی منشور پر استوار کرنا وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے۔ سیاسی جماعتوں پر بلاشبہ شدید دباؤ ہے، تقریباً تینوں مین سٹریم پارٹیوں کو اپنے امیدواروں کو فائنل کرنا چیلنج بن چکا ہے۔ بنی گالہ پر دھرنا تاحال جاری ہے۔ پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات فواد چوہدری کے مطابق پارلیمانی بورڈ کی جانب سے کچھ حلقوں میں ٹکٹوں کی تقسیم کے خلاف دی گئی زیادہ تر درخواستوں پر نظر ثانی کی جاچکی ہے۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ حتمی فہرست کے اعلان تک تمام تنازعات حل کر لیئے جائیں گے۔

یہا ں سپیشل سیکٹر ی د ا خلہ رضوا ن ملک کی جا نب سے ظا ہر کیئے گئے اس بیا ن کو ضر و ر سا منے رکھنا ہو گا جس کے مطا بق انہو ں نے بیرون ملک سے الیکشن کو سبوتاژ کرنے کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کا سینیٹر رحمن ملک کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ کمیٹی کو وزارت اور ماتحت اداروں کی ورکنگ سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے سپیشل سیکرٹری داخلہ رضوان ملک نے بتایا کہ الیکشن 2018ء میں امیدواروں پر دہشت گردوں کے حملے ہوسکتے ہیں اور بیرون ملک سے الیکشن کو سبوتاژ کرنے کے خدشات ہیں۔ الیکشن میں حملوں کے حوالے سے ہمیں یہ تمام انفارمیشن صوبوں کی طرف سے دی گئیں۔ اسی نوعیت کا خدشہ اس سے قبل بھی ظاہر کیا جاچکا ہے۔ یہ سنگین خارجی سٹریٹی جیکل موو ہوسکتی ہے۔ پاکستان کے دشمن وہی ہتھکنڈہ استعمال کرنے کی سازش کرسکتے ہیں جو امریکن الیکشن میں روسی سائبر اٹیک اور آئی ٹی کی سطح پر منظم مواصلاتی اور اطلاعاتی جارحیت (انویژن) کے زمرے میں آتے ہیں۔ ارباب اختیار کے لیے دو راستے ہیں۔ اول تمام سیاسی جماعتوں کا اجلاس بلایا جائے جبکہ ان خدشات پر کھل کر بات کی جائے اور چھپے دشمنوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے سٹریٹجی تشکیل دی جائے۔ اسی حوالہ سے سیاسی جماعتیں الزام تراشی اور بلاجواز قیاس آرائیوں، افواہوں اور سوشل میڈیا کی بے پر کی خبر و ں پر انحصار ترک کریں بلکہ پوری جانفشانی سے الیکشن کی تکمیل کو اپنا انتخابی ایجنڈا بنائیں۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو پنجاب اور پختونخواہ میں قابل ذکر امید واروں کی کمی کا سامنا ہے۔ سیاسی قائدین کو اس حقیقت کا بھی ادراک ہونا چاہیے کہ عام انتخابات میں اب چند ہی ہفتے باقی رہ گئے ہیں اور اس حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں کو اپنے امیدواروں کی حتمی فہرست مرتب کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہے۔ جنہیں ٹکٹ نہیں ملے ان کارکنوں اور اہنماؤں کی ناراضی دور کی جائے۔ ان کی شکا ئیا ت کا منطقی جو ا ب فر ا ہم کیا جا ئے۔ کیونکہ کوئی سیاسی جماعت اپنے بے لوث کارکنوں کو خود سے بدگمان کرکے زندہ نہیں رہ سکتی۔ جبکہ الیکشن کمیشن کی طر ف سے امیدواروں کو کاغذات نامزدگی واپس لینے اور پارٹی امیدواروں کی حتمی فہرست کے لیے 29 جون تک کی ڈیڈ لائن ایک ویک اپ کال ہے۔ ادھر حروں کے روحانی پیشوا پیر سید صبغت اللہ شاہ پیر پگارا نے کہا ہے کہ عام انتخابات میں کامیابی صاف ستھرے عوام کی خدمت کرنے والوں کی ہوگی جبکہ گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) نے سندھ میں انتظامی عہدوں پر غیرجانبدار افسران کی تقرری کے لیے الیکشن کمیشن سمیت متعلقہ اداروں کو ایک ہفتے کی مہلت دے دی ہے۔ بظا ہر تو ا لیکشن کمیشن انتخابات کے لیے بالکل تیار ہے۔ مگر تین بڑی سیا سی جما عتیں، پا کستا ن مسلم لیگ ن، پا کستا ن تحر یکِ ا نصا ف، اور پیپلز پا رٹی ا پنے امید و ا رو ں کے حتمی چنا ؤ کا عمل مکمل نہیں کر پا ئیں۔ جس کی بنا ء پر ان کے سیا سی کا ر کن بے چینی کا شکا ر ہیں۔ اس بار ے میں افو ا ہو ں کا تا نتا بند ھا ہو اہے۔ پا ر ٹیو ں کے در میا ن سیا سی محا ز آ ر ا ئی ذا تیا ت پہ اتر آ ئی ہے۔ با ت گا لم گلو چ سے آ گے بڑ ھ کر ہا تھا پا ئی تک جا چکی ہے۔ اور یہ کسی طو ر بھی صحت مند طر زِ عمل نہیں۔ اور اگر سیا سی پا رٹیو ں کے اندرونی حا لا ت کا جا ئز ہ لیں، تو ٹکٹو ں کے وہ امید وا ر جو ٹکٹ حا صل نہیں کر پا ر ہے، اپنے ہی مر کزی ر ہنما ؤ ں کی کر دا ر کشی پہ ا تر �آئے ہیں۔ شا ئد ان کا کہنا در ست بھی ہو، لیکن ا گر ا ن کے مر کز ی رہنما اتنے ہی بر ے تھے تو ان امید و ا ر و ں کو ان کی یہ بر ا ئی پہلے نظر کیو ں نہیں آ ئی؟