عمران خان سے کرسی ابھی کتنی دور؟


Faizul Hassan Posted on May 27, 2018

مئی 2018ء کا مہینہ ختم ہونے کو ہے۔ جوں جوں قومی انتخابات نزدیک سے نزدیک تر ہورہے ہیں، ایک سوال جڑ پکڑتا جارہا ہے کہ آئندہ پاکستان میں وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پہ کون براجمان ہوگا۔ کوئی کیا کہتاہے، کس کا کیا انداز ہے۔ اسے ہٹ کر تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی بات کریں تو خود عمران خان یقین کر بیٹھے ہیں کہ وزارتِ عظمیٰ کی کرسی ان کے نصیب میں آنے کو ہے۔ مگر کیا واقعی ایسا ممکن ہے؟ یہ جاننے کے لیے ہمیں عمران خان کی شخصیت کو سمجھنا ہوگا۔ تو آ یئے چلتے ہیں سب سے پہلے 1992ء کی جانب ، جب پاکستان کرکٹ ٹیم نے ورلڈ کپ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا۔

 

 

سب جانتے ہیں کہ پاکستان کی جیت میں پوری ٹیم خصوصاً انضما م الحق اور وسیم اکرم کا ہاتھ زیادہ تھا مگر وکٹری سٹینڈ پر کھڑے ہوکر جب عمران خان نے بطور کپتان اپنے خیالات کا اظہار کیا تو ان کی نیت کھل کر سامنے آگئی۔ ان کا کہنا تھا کہ بالآخر میں نے یہ کپ جیت لیا۔ ملاحظہ فرمائیے خان صاحب کی خود غرضی کہ کس طرح ٹیم کے اصل ہیروز کو پس پشت ڈال کر پورے کا پورا کریڈٹ خود سمیٹنے کی کوشش کی۔ دراصل عمران خان کی یہی وہ خود غرض طبیعت ہے جو انہیں وزارتِ عظمیٰ کی کرسی سے دور رکھے ہوئے ہے۔ بہرحال اسی میچ کے بعد انہوں نے اپنی کرکٹ سے ریٹارمنٹ کافوری طور پر اعلان کردیا۔

 

 

عوام تو بہرحال اس اعلان پر حیران تھے مگر اہل خرد فوراً سمجھ گئے کہ اس اعلان کے پیچھے کوئی سازش کار فرما ہے۔ پھر جوں جوں وقت گزرتا گیا یہ سازش مزید سے مزید طور پر کھل کر سامنے آنے لگی۔ ایک بات کہتا ہوں وہ یہ کہ اگر عمران خان کی شخصیت میں ذہانت کا ذرا سا بھی عنصر شامل ہوتا تو وہ اس سازش پہ پردہ ڈال سکتے تھے۔ مگر کیا کیا جائے کہ ذہانت سے ان کا دور کا واسطہ بھی نہ تھا۔ یوں ان کی طبیعت کی خود غرضی کھل کر سامنے آنے لگی۔ چنانچہ آج نوازشریف کو اپنا سب سے بڑا ازلی دشمن سمجھنے والے عمران خان نے 1992ء کے ورلڈ کپ کے فوراً بعد 1993ء میں نواز شریف کی پشت پناہی اختیار کی۔ چنانچہ شوکت خانم کینسر ہسپتال کا تمام تر کریڈٹ لینے والے عمران خان کو ہسپتال کے لیے زمین نواز شریف نے عطا کی ہے۔ مگر ہم دیکھتے ہیں کہ خود غرض طبیعت کے مالک عمران خان نواز شریف کے اس احسان کو بھول کر بھی ذکر نہیں کرتے۔ البتہ وہ اپنے خود غرض مقاصد کی تکمیل کی غرض سے 1993ء میں میاں نواز شریف کے ساتھ ر ہے۔ پھر عمران خان 1999ء میں جنرل پرویز مشرف کے برسر اقتدار آنے کے بعد ان کے ساتھ ہو لئیے ۔ اس طرح وہ 1999ء اور 2000ء میں مکمل طور پر پرویز مشرف کے ساتھ رہے۔ مگر یہی عمران 2001ء میں طالبان کے ساتھ نظر آئے۔ پھر 2002ء میں ان کی مطلب پرستی ملاحظہ فرمائیں کہ آج مولانا فضل الرحمن کو مولانا ڈیزل کے نام سے موسوم کرنے والے عمران خان نے اسمبلی میں اپنا ووٹ مولانا فضل الرحمن کو دیا۔

پھر 2006ء میں ملک کی سربراہی پرویز مشرف کے ہاتھ سے نکلتے دیکھ کر عمران خان چیف جسٹس آف سپریم کورٹ آف پاکستان افتخار چوہدری کے ساتھ ہولیے۔ یہی عمران خان 2008ء میں مکمل شدو مد کے ساتھ جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد کے ساتھ کاندھے سے کاندھا جوڑے نظر آئے۔ 2013 ء میں بھی انہوں نے اپنا اتحاد جماعت اسلامی کے ساتھ کیا۔ پھر وہ 2014ء میں کینڈا سے درآمد شدہ شعبدہ باز طاہرالقادری کے ہمراہ نظر آنا شروع ہوئے اور پھر ملاحظہ فرمائیے کہ 2015ء کے بلدیاتی انتخابات میں کراچی وسطی کے علاقے میں ایم کیو ایم کے ساتھ نظر آئے۔ واہ عمران خان واہ۔ 2016ء کے سینیٹ الیکشن میں عمران خان نے مسلم لیگ (ن) اور جماعت اسلامی کا ساتھ دیا۔ پھر پیپلز پارٹی سے دلی پرخاش رکھنے والے عمران خان نے سینیٹ الیکشن میں کھل کر پیپلز پارٹی کا ساتھ دیا اور اس پہ طرہ یہ کہ وہ ہمیشہ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن پہ الزام لگاتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن ہر حکومت وقت کا ساتھ دیتے ہیں۔ قارئین کرام میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ اوپر بیان کیے گئے حالات کے مطابق آپ کو کہیں بھی عمران خان میں پاکستان کے ساتھ حب الوطنی کا عنصر دکھائی دیتا ہے؟ اگر ہم عمران خان کے آج تک دیئے گئے بیانات اور انٹرویوز کا جائزہ لیں تو دیکھتے ہیں کہ ا ن کی مخالف پارٹیوں پر تنقید اور غم و غصہ کے علاوہ کچھ بھی دیکھنے کو نہیں ملے گا۔ چلیں درست ہے کہ آپ دوسروں کی کرپشن پہ تنقید کریں، مگر یہ بھی تو بتائیں کہ آپ اس ملک کو کیسے سنوار سکتے ہیں۔ اور پھر ان کے جو اندرونی روپ ہیں، ان میں تضاد پایا جاتا ہے۔ مثلاً ایک طرف تو وہ جمائما کے خاندان سے اب تک تعلقات رکھے ہوئے خود کو مغربی تہذیب کے طرفدار ثابت کرتے ہیں، دوسری طرف اپنے ملک میں پیروں، فقیرو ں کے چلوں کے زور پہ حکومت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس سلسلے میں انہیں اگر شادی رچانا بھی پڑ جائے تو دوسروں کو یہ کہہ کر چپ کرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ میرا ذاتی مسئلہ ہے۔ ٹھیک ہے حضور یہ آپ کا ذاتی مسئلہ ہے لیکن پھر عوام کو آپ کے عوامل کو دیکھ کر آپ کے بارے میں رائے قائم کرنا ان کا بھی ذاتی مسئلہ ہے۔ عمران خان نے اپنے اردگرد اپنے ترجمانوں کے زور پر جو حواری اکٹھے کیے ہوئے ہیں، ذرا ان کا بات چیت کا انداز ملاحظہ فرمائیں۔ ابھی چار پانچ روز پہلے ہی کی بات ہے ان کے ترجمان نعیم الحق نے ایک ٹی وی مذاکرہ میں دانیال عزیز کو تھپڑ جڑ دیا۔ کیا یہ ہے وہ کلچر جس کی بنیاد تحریک انصاف اس ملک میں رکھنا چاہتی ہے؟
قارئین کرام آپ کو اس کالم کو پڑھتے وقت سوچ رہے ہوں گے کہ میں کیوں عمران خان کے سیاسی نظریات پہ کوئی بات نہیں کررہا؟ تو عرض ہے کہ عمران خان کا کوئی سیاسی نظریہ سرے سے ہے ہی نہیں۔ اگر کوئی ہے تو وہ صرف کرسی تک پہنچنے کا ہے۔ مگر کرسی تو ان سے دور سے دور ہوتی جارہی ہے۔ کیونکہ جوں جوں وقت گزرتا جارہا ہے، توں توں ان کی اصل شخصیت، نیت اور ترجیحات سامنے آئے چلی جارہی ہیں۔ وہ شروع کے دنوں میں لاہور میں چلنے والی میٹرو بس سروس کو جنگلا بس سروس کہا کرتے تھے، مگر اب کیوں نہیں کہتے؟ اس لیے کہ وہ اس سروس کا آغاز پشاور میں بھی کرتے نظر آرہے ہیں۔ گویا ان کی بصارت میں دور اندیشی نا م کی کوئی شے سرے سے موجود ہی نہیں۔ شاید یہی وہ وجہ ہے کہ آئے روز وہ وزارتِ عظمیٰ کی کرسی کو خود سے قریب محسوس کئے جارہے ہیں۔ جبکہ عمران خان کی صوبہ کے پی کے میں گڈ گورننس کا یہ حال ہے کہ وہاں اپنے دورِ اقتدار میں صرف چھ میگاواٹ بجلی پیدا کرسکے ہیں، اس میں سے بھی پچیس فیصد چوری ہوجاتی ہے۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ ملک چلانے کے لیے جوش کی نہیں بلکہ ہوش کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور ہوش کسی بازار میں بکتا نہیں۔ اس کے لیے کھیل کود کی نہیں بلکہ گہرے مطالعے کی ضرورت ہوتی ہے۔ صرف ہوش کے تحت ہی آپ غیر ملکوں کے سربراہوں سے اپنی فارن پالیسی پر بات کرسکتے ہیں۔ ہمارے بلوچستان، کراچی اور سب سے بڑھ کر مقبوضہ کشمیر کے بارے میں انہوں نے کیا طے کیا ہے؟ ان سے ذرا یہ سوال پوچھ کر تو دیکھیں۔ وہ اس سوال کا جواب فوراً ملک میں موجود دوسری سیاسی پارٹیوں پہ تنقید کی صورت میں ادا کرتے نظر آئیں گے۔ تو عمران خان صاحب یہ ملک بہت زیادہ قربانیوں سے معرضِ وجود میں آیا ہے۔ یہاں کرسی کا حصول بغیر قربانیاں دیئے اتنا بھی آسان نہیں۔