نیشنل پارٹی کی طرف سے مردم شماری ملتوی کرنے کا مطالبہ


Mian Fayyaz Ahmed Posted on January 29, 2017

 

وی او اے,

پاکستان کی حکومت کی ایک حلیف جماعت نیشنل پارٹی نے بلوچستان اور صوبہ خیبر پختونخواہ میں مردم شماری کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک ان علاقوں سے تمام تارکین وطن واپس نہیں چلے جاتے مردم شماری نہ کروائی جائے۔

اتوار کو کوئٹہ میں سابق وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالمالک بلوچ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے جہاز رانی اور نیشنل پارٹی کے سربراہ میر حاصل بزنجو نے مطالبہ کیا کہ بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی اور ملک میں بدامنی کے باعث نقل مکانی کرنے والوں کی آبادکاری کا عمل مکمل ہونے تک مردم شماری کو موخر کیا جائے۔

پاکستان میں تقریباً 19 سالوں کے بعد مردم شماری ہونے جا رہی ہے جس کا پہلا مرحلہ مارچ کے وسط میں شروع ہو گا۔ پاکستانی فوج نے بھی اس عمل میں معاونت کے لیے اپنے دو لاکھ اہلکاروں کو تعینات کرنے کا کہا ہے۔

ملک میں اکثر حلقے مردم شماری کے انعقاد کے فیصلے کو سراہتے ہوئے کہتے ہیں کہ وسائل کی تقسیم اور منصوبہ بندی کے لیے یہ عمل انتہائی ضروری ہے۔

تاہم میر حاصل بزنجو کا کہنا تھا کہ صوبہ بلوچستان میں صورتحال مردم شماری کے لیے موزوں نہیں۔

"عسکریت پسندی کے نتیجے میں بہت سے لوگ دوسرے پرامن علاقوں میں منتقل ہو چکے ہیں، جن میں مکران ڈویژن، نصیر آباد، ڈیرہ بگٹی، کو ہلو اور آواران شامل ہیں ایسے حالات میں مردم شماری تو آپ کر لیں گے مگر اس میں اور زیادہ سیاسی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔

اُن کا کہنا تھا کہ ان حالات کو مدنظر رکھ کر نیشنل پارٹی سُپریم کورٹ میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں مردم شماری ملتوی کر انے کے لیے اپیل دائر کرے گی۔

نیشنل پارٹی وفاق اور صوبے کی سطح پر پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت کی اتحادی ہے۔ 2013ء کے انتخابات کے بعد بلوچستان میں نیشنل پارٹی اور مسلم لیگ نواز کی مشترکہ حکومت قائم ہوئی جو جون 2016ء تک قائم رہی۔ اس دوران جب بھی مردم شماری کا ذکر آیا نیشنل پارٹی نے کبھی اس کی مخالفت نہیں کی لیکن معاہدے کے مطابق ڈھائی سال کے بعد نیشنل پارٹی کی حکومت کے خاتمے اور مسلم لیگ ن کی حکومت کے قیام کے بعد اب نیشنل پارٹی بھی صوبے کی بعض دیگر بلوچ قوم پرست سیاسی جماعتوں کی طرح مردم شماری کی مخالفت کر رہی ہے۔

1998ء میں ہونے والی مردم شماری کے موقع پر بلوچستان میں افغان پناہ گزینوں کی ایک بڑی تعداد بھی موجود تھی لیکن صوبے میں بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل گروپ کی حکومت تھی جس کی وجہ سے صوبے کی بلوچ قوم پرست جماعتوں نے مردم شماری کی مخالفت نہیں کی جبکہ پشتو نخوا ملی عوامی پارٹی نے اُس وقت مردم شماری کا بائیکاٹ کیا تھا۔