ورکرز کو تنخواہیں ادا کرکے میڈیا مالکان جمعرات کو عدالت میں بیان حلفی پیش کریں، سپریم کورٹ


Mian Fayyaz Ahmed Posted on June 11, 2018

سپریم کورٹ نے میڈیا ہاوسز مالکان کو فی الفور تنخواہیں ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے ان سے بیان حلفی طلب کر لئے ہیں چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بنچ نے سماعت کی, بعدازاں کیس کی اہمیت کے پیش نظر چیف جسٹس نے لاہور رجسٹری برانچ کےکمیٹی روم میں نوٹسز کیے گئے میڈیا ہاوسز کی انتظامیہ اور متاثر ورکرز کو ایک ایک کرکے تنخواہوں کے معاملے کو حل کردیا۔
 
میڈیا مالکان اور ان کے نمائندوں نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ وہ تنخواہیں ادا کردیں گے چیف جسٹس نے کہا کہ تنخواہیں ادا کرکے عدالت میں بیان حلفی جمع کرایا جائے مالکان کی جانب سے حکومتی اشتہارات کی ادائیگی میں تاخیر کا معاملہ اٹھا یا گیا تو چیف جسٹس نے کہا کہ ہمییں اس سے غرض نہیں یہاں پر مسلہ تنخواہوں کی ادائیگی کا ہے مالکان بھیک مانگیں قرض لیں یا گھر بیچیں جو بھی کریں ملازمین کو تنخواہیں دیں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ جن ورکرز نے کام کیا ہے تنخواہ ان کا حق ہے ان غریبوں نے بھی عید کرنی ہے، سرمایا دار کو تو پرواہ نہیں لیکن سولہ ہزار ماہوار لینے والا ورکر تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے گھر نہیں چلا سکتا اس کے بھی بچے ہیں جن کے لیے وہ بےچارہ کام کررہا ہے کام کرنے کے باوجود تنخواہ نہ ملنا ظلم ہے. عدالت نے تنخواہیں ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے جمعرات کو کیس سماعت کے لیے مقرر کر دیا اور مالکان سے تنخواہیں ادا کرکے بیان حلفی بھی طلب کر لیا. کمیٹی روم میں سماعت کے دوران میڈیا ورکرز کی جانب سے پریس ایسوسی ایشین آف سپریم کورٹ کے صدر طیب بلوچ، پی ایف یو جے کے صدر پرویز شوکت ، عارف حمید بھٹی اور ایمرا کے صدر آصف بٹ بھی موجود تھے. جبکہ عدالت میں نیشنل پریس کلب آزاد گروپ کے صدر شکیل قرار اور صحافیوں کے نمائیندے مظہر اقبال بھی موجود تھے۔