پائلٹس کے مشکوک لائسنسز کی تحقیقات حتمی مرحلے میں داخل، رپورٹ 15 ستمبر کو پیش کرنیکی ہدایت


Mian Fayyaz Ahmed Posted on September 11, 2020

اسلام آباد:پائلٹس کے مشکوک لائسنسز کی تحقیقاتی رپورٹ پندرہ ستمبر کو کابینہ اجلاس میں پیش کیے جانے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔تحقیقات میں جعلسازی ثابت ہونے پر پائلٹس کے لائسنس منسوخ کیے جائیں گے۔ سینیٹ ذیلی کمیٹی برائے ایوی ایشن میں پالپا ترجمان نے کمیٹی کی تحقیقات پر بڑے اعتراضات اٹھا دئیے ہیں۔ذرائع کے مطابق مشکوک لائسنس پرپائلٹس کیخلاف ذاتی سماعت کا عمل مکمل کرکے انکوائریز نمٹانا شروع کر دی گئی ہیں۔ لائسنس حصول میں ایس او پیز کی خلاف ورزی پر متبادل سزائیں دینے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔دوسری جانب سینیٹ ذیلی کمیٹی برائے ایویشن میں پالپا ترجمان کیپٹن قاسم نے کہا کہ لائسنس کو بنیاد بنا کر 141 پائلٹس کے لائسنس جعلی قرار دئیے گئے جن میں سے 15 ریٹائرڈ ہو چکے تھے اور 20 پائلٹس ایسے ہیں جو کبھی پی آئی اے کا حصہ ہی نہیں رہے۔

یہی نہیں، 25 پائلٹس کو بالکل غلط معلومات پر گراؤنڈ کیا گیا جبکہ 45 پائلٹس کے لائسنس امتحان کی تاریخ سے متعلق غلط فہمی کی بنیاد پر جعلی قرار دئیے گئے۔ پالپا کو تحقیقات کے دوران کسی بھی سطح پر اپنا موقف پیش کرنے کے لیے نہیں بلایا گیا۔کمیٹی نے اس بات پر حیرانگی کا اظہار کیا کہ تحقیقات میں پائلٹس کو سنا تک نہیں گیا۔ چیئرمین کمیٹی نے پائلٹس لائسنس فورنزک رپورٹ ان کیمرہ اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے انکوائری کمیٹی کے سربراہ کو آئندہ اجلاس میں طلب کر لیا۔